لاکھوں مار دئیے,عراق ایران،بوسنیا،فلسطین, شام,افغانستان,

 اور یہ دنیا ایک بار پھر پہلے سے بھی زیادہ پررونق یوجائے گی.

کرونا بحران کے بعد جو نئ دنیا بنے گی،بہتر ہوگا کہ اس میں وہ پرانی لیبارٹریاں اور وہ سائنس یونی ور سٹیاں جلا دی جائے،جو ایک کرونا کے سامنے بے بس دکھائ دیتی ہیں۔

پروفیسر الطاف رحمن کا دل کو چھونے والا مضمون


۔ایک ایسی وبا جس پر 2011 میں ایک فلم بنی۔۔اور ایسا لگتا ہے جیسے فلم بنانے والا رائٹر کوئ امام مہدی ہو۔۔یعنی جو کچھ اس فلم میں دکھایا گیا ہے،کم و بیش وہی صورتحال آج کرونا سے بنی صلیبی جنگ کی ہے۔۔۔جبکہ اس وائرس سے متعلق معلومات کتابوں میں 50 سال پہلے دی گئ تھیں۔۔۔لیکن دوا بنانے کا کام کسی نے بھی اپنے سر نہیں لیا۔۔۔دنیا سرد جنگوں اور اسکے بعد سول جنگوں میں انسانیت کا قتل عام کرتی رہی۔۔جبکہ کرونا کے بارے میں جن طاقتوں کو علم تھا وہی طاقتیں افغانستان،ویٹ نام،عراق،بوسنیا،فلسطین اور شام پر تو دیوانہ وار بمباریاں کرتے رہے۔۔انسانی لاشوں کے تماشے بنائے گئے۔۔ھجرتوں پر ھجرت کیے گئے۔۔انڈونیشیا میں سول وار کے ذریعے لاکھوں مار دئیے۔۔عراق ایران جنگ اور پھر عراق کویت جنگوں میں خون کے دریا بہا دئیے گئے۔۔افغانستان میں تو نسلیں تباہ ہوئیں۔۔۔شام کو تو تاریخ کا ایک خون آشام منظر بنا دیا گیا۔۔۔یہ سب کام صرف اسلئے ہوئے کہ مغربی سامراج ترقی کے زینوں پر چڑھتا رہے وہاں سائنس اور طب ترقی کرے جبکہ ہمارے وسائل ان سورماوں کے کام آتے ریے۔۔لیکن ہوا سب کچھ ہمارے خیالات کے بلکل برعکس۔۔۔ایک ہی کرونا کے سامنے یہ سب طاقتیں اور سب سائنس دان ڈھیر ہوگئے۔۔۔کیا یہی تھا آپکی دنیا کا خلاصہ کہ اتنے بڑے بڑے سائنسی دعوے کئے گئے،چاند پر قدم رنجہ ہوئے۔۔پتہ نہیں کیسے کیسے  انسانیت کش بم آپ نے بنائے۔۔۔لیکن جب کرونا جیسے قلیل ترین ذرے کا سامنا ہوا تو حوادث کے فوج ظفر موج نے پوری دنیا کو آڑے ہاتھوں لیا۔۔دفع کرو اپنی سائنسی لیبارٹریز اور ان میں موجود جعلی سائنس دان جنہوں نے پوری انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا۔۔۔انہی جعلی سائنسدانوں کی بدولت آج ہم دنیا سے لاشیں اٹھارہے ہیں اور انسانیت دم توڑ رہی ہے۔۔۔لیکن گھبرانے کی بھی بات نہیں ہماعا اللہ جو ہے۔۔۔انشاءاللہ سب کچھ چشم زدن میں اللہ پر بھروسے سے ٹھیک ہوجائے گا اور یہ دنیا ایک بار پھر پہلے سے بھی زیادہ پررونق یوجائے گی۔۔۔۔

Comments