بچے

بچے۔
بچے کو جھوٹ سے روکو کیونکہ وہ ایک عادت بن جاتی ھے۔بچے کو چوری سے روکو کیونکہ وہ ایک عادت بن جاتی ھے۔بچے کو بد زبانی او گالی گلوچ سے روکو کیونکہ وہ ایک عادت بن جاتی ھے۔بچے کو نماز کی تلقین کرو اور اخلاق سیکھاو کیونکہ وہ ایک بہترین عادت بن جاتی ھے۔اور وہ بھی بڑے پیار اور سیلقے سے۔کیونکہ بچہ زور زبردستی اور ھٹ دھرمی سے بگڑ جا تا ھے۔

بچہ پلیٹ توڑتا ھے۔بچہ شور بھی کرتا ھے۔بچہ ضد بھی کرتا ھے۔بچہ اپنی فرمائش بھی پوری کرواتا ھے۔بچہ سونے بھی نہیں دیتا۔بچہ بیمار بھی ھوتا ھے۔بچے کو تمہارے سکون کی فکر بھی نہیں ھوتی کیونکہ وہ بچہ ھے۔اسکو نہیں علم کہ میرے یہ سب کرنے سے کسی کو تکلیف ھوتی ھے۔اسکو نہیں یہ علم کہ مجھے خود کو کن چیزوں سے روکنا ھے اور کن چیزوں سے نہیں لہذا بچوں کو بچہ سمجھ کر پیش آوو مار پیٹ ڈانٹ انکا انکی زندگی پر بہت برا اثر پڑھتا ھے۔اور کچھ جانور نما انسان اسکو گولی مار دیتے ھیں۔کیا تم بچے نہیں رھے تھے تم نے شور نہیں کیا ھوگا کیا تم ان ساری باتوں سے نہیں گزرے۔جس سے ایک بچہ گزرتا ھے۔ افسوس صد افسوس کہ ھمارے معاشرے میں ایسے بدبخت بھی ھے جو بچو کو نہیں جان سکے۔میری دعا ھے کہ ھم سب اپنے بچو کی پر ورش اس طرح کرے جیسا محمد ؐ.   نے ھمیں سکھا یا ھے۔ آمین۔

Comments