ھم راستہ کیوں بھٹک جاتے ھیں؟ خضر سید۔


ھم راستہ کیوں بھٹک جاتے ھیں؟خضر سید۔

ھم راستہ بھٹک جاتے، اگر چہ قرآن اور حدیث ھمارے درمیان موجود ھے۔

خضر سید۔
خضر سید۔

کیونکہ ھم ھمیشہ دوسروں کے سہارے جیتے ھیں۔کہ فلاں نے ایسا کہا تھا اور فلاں سے ایسا سنا ھے۔مجال ھے کہ ھم نےبات کی تحقیق کی ھو کبھی احادیث کے کتابوں اور قرآن کو سمجھنے کی کوشش بھی کی ھو۔وہ تو ھم نے علماء کے ذمے ڈال دیا ھے کہ آپکی ڈیوٹی ھے آپ محنت کرو ھم تو صرف روزی کمانے کیلئے جنے ھیں۔اللہ کے بندو ھر انسان نے اپنا جواب دینا ھے۔علماء حضرات تو ھماری الجھن کو آسان اور ھماری سمجھ کی رھنمائی کیلئے ھیں۔ھمارے والدین بھی انسان ھے اور گلی محلے کے بڑے بھی انسان ھے ان سے جو بات پہنچتی ھے اسمیں غلطی کا اندیشہ ھو تا ھے۔کبھی ھم نے تحقیق کی ھے جو ھمیں بتایا گیا ھے۔ وہ ٹھیک ھے یا غلط ھماری اس کم علمی کا مختلف عقائد اور نظریات والے فائدہ اٹھا کر ھمیں گمراہ کردیتے ھیں۔اگرچہ ھمارے درمیان حدیث اور قرآن موجود ھے۔کبھی ھم نے گوارہ ھی نہیں کیا کہ احادیث مبارکہ کی کتابیں ھمارے پاس ھونی چاھئے۔اور بڑے فخر سے ھم بڑے بڑے ناول مغربی ادیبوں کی کتابیں سنبھا ل کر رکھی ھوئی ھیں۔اور اسی کو مشعل راہ بنایا ھوتا ھے۔اور یہی وجہ ھے کہ ھم ان طاقتوں کے آلہ کار بن جاتے ھیں جن کو ھم نے اپنے منحج کی دعوت دینی ھوتی ھے۔اور راستہ بھٹک جاتے ھیں اگرچہ حدیث اور قرآن ھمارے درمیان موجود ھے۔جو کہ اصل مشعل راہ اور کامیابی کا ذریعہ ھے۔ خضر سید۔

Comments